10 ستمبر 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے 11 ستمبر کے واقعے میں وسیع پیمانے پر عوامی جذبات کو ابھارا ہے-

ابنا: صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژادنے فرانسیسی نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کیوں آج ان دس لاکھ سے زیادہ افراد کے بارے میں جو اب تک 11ستمبر کے بہانے سے مارے جاچکے ہیں مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے کہاکہ 11 ستمبر کے واقعے کے حوالے سے جو اہم واقعات رونما ہوئے  اور انہیں منعکس کیا گیا وہ محض میڈیا کاروائی تھی - انہوں نے مزید کہا کہ اگر ذرائع ابلاغ ایسا نہیں کرتے تو آج افغانستان ،عراق اور خلیج فارس میں امریکی فورسیز موجود نہ ہوتیں – صدر احمدی نژاد نے کہا کہ جب یہ اعلان کیا گیا کہ 11 ستمبر کے حملوں میں 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں تو سب غمگین ہو گئے اور سب نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا لیکن جب انسان ان حملوں کی محوریت میں میڈیا کے اقدامات کا بغور جائزہ لیتا ہے تو اس واقعے اور اس کے بعد غاصبانہ قبضوں کے درمیان رابطے کا بخوبی ادراک کرلیتا ہے -  انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایک بہترین عالمی نظام قائم کیا جاسکتا ہے کہاکہ ڈالر سے رابطہ منقطع کرنا اور تسلط پسندانہ نظام کا طلسم توڑنا ایسے بنیادی اقدامات ہیں کہ جن کو عملی شکل دینے میں ایران پیش پیش رہا ہے لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ابھی  طویل راستہ درپیش ہے –اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدرنے کہا کہ مغربی ممالک یہ تصور کرتے تھے کہ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرکے ملت ایران کا عزم توڑ دینگے لیکن یہ تصور بنیادی طور پر غلط تھا اور ہے ....../169